وہ جو اس کو کبھی تکلیف میں نا دیکھ سکتا تھا آج کتنا حوصلہ لے آیا تھا۔نا جانے اس کا انجام کیا تھا لیکن اس کا عشق لاء تھا۔جب اس کو آپریشن تھیٸٹر میں لٹا دیا ہر طرف گہما گہمی تھی لیکن اس کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں مضبوطی سے تھا۔ وہ زرا بھر لمحے کے لیے بھی اپنی نظر اس سے نہیں ہٹا رہی تھی اس کی آنکھوں سے جب آنسوں نکلا تو اس نے اپنے مسکراتے چہرے سے اس کے ہاتھ کو اور مضبوطی سے تھاما۔جیسے کہ وہ اس سے کہ رہا ہو کہ وہ ہر چیز سے لڑ جاۓ گا لیکن خود کو اس سے جدا نہیں ہونے دے گا۔وہ مسلسل اپنی نم آنکھوں سے اس کو تکتی رہی لیکن کچھ کہ نا سکی شاید اس کی آنکھیں وہ سب بیان کر چکی تھی اور کچھ ہی لمحوں میں اس کو بے حوش کر دیا گیا۔اس کی پلکتیں جھپکتے ہی اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ اب یہ جنگ صرف اس کی نہیں تھی۔ڈاکٹرز نے اپنا کم شروع کیا وہ ابھی بھی اپنے خشک خلق کے ساتھ اپنے خوف پر قابو کیے اس کا ہاتھ تھامے ہوۓ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🍁