وہ اک سہارا جو مجھے بے بس کر دیتا ہے جس کی آغوش میں میرا بکھرا وجود سمٹ سا جاتا ہے جو مجھے میرے تمام غموں سے نا آشنا کر دیتا ہے جو مجھ میں پھر سے جینے کی امنگ جگا دیتا ہے ہر دفعہ کی طرح ایک امید بنا جاتاہے
آخر پھرمجھے خوف ہے کہ ایک دن یہ فریب مجھے موت کی نیند سلا جاۓگا
No comments:
Post a Comment