اکثر آپ کا گزرایسے حالات سے ہوتا ہے جب دل خوشی یااداسی کی کیفیعت کو سمجھ نہیں پاتا شاید اس کو بےسکونی کہنا مناسب ہو گا کہ یہ ایسے نہیں ہوتا تو میں خوش ہوتا شاید ۔۔۔۔۔۔
حالات کبھی بھی ہمارے مطابق نہیں چلتے ان کی ڈور ہمارے ہاتھوں میں کہاں ہوتی ہے۔
اور پھر سب کچھ قبول کرنا تھوری آسان ہوتا ہے ۔انسان ہمیشہ خود کو ایک گہرے دلدل میں ڈوبتا محسوس کرتا ہے بظاہر تو ایسا نہیں ہو رہا ہوتا لیکن اندرونی کیفیت اس کو ذہنی مفلوج کر چکی ہوتی ہے کہ اس کے دل میں جو کہرام ہوتا ہے اس کی آواز ہر وقت اس کے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔
No comments:
Post a Comment