زندگی کے بڑے بڑے ادوار میں سے ایک دور پختگی بھی ہے جو صرف انسان کو وقت کے ساتھ سمجھ میں آتا ہے یا شاید یہ کہنا بہتر ہو گا کے زندگی کے بہت نازیبا واقعات کے گزرنے کے بعدیہ زندگی میں قدم رکھتا ہے۔اگر سادہ زبان میں کہو تو جب انسان کسی خوشی یا غم کی شدت کو محسوس نہ کرسکے وہ پختگی ہے۔ جب اس کی زبان سے بلا وجہ کے نکلنے والے قہقہے خاموشی اختیار کر جاۓ جب وہ دل میں باتیں رکھنا سیکھ جاۓ اور شاید تب جب اس کادل اور اس کی ذبان یکجا نہ ہو سکے اور ہو سکتا ہے پختگی اس صبر کا نام ہےجب انسان کو اپنی زات اورکسی دنیاوی شے یا کسی دنیاوی شخص کے درمیان کسی ایک کے انتخاب کا نام ہے اور بے شک وہ انتخاب دنیاوی کمال ہے ۔ زندگی کے حادسات و واقعات کو گزارنے کہ بعد بھی ان تکلیفوں پر آہ نہ کہنا اور دل میں سمیٹ لینا پختگی ہے شاید
تنہائی انسان کی سب سے بہترین سا تھی ہے لیکن پھر بھی ہمیں نہ گزیر ہے یہ آپ کے ساتھ گزارے لمحوں کا حساب نہیں رکھتی اور نہ ہی موقع ملنے پر آپ کے احساسات اور جزبات کا قتل کرتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment