عاشقی کا مطلب تو نے ہے سیکھایا
میرا کھویا سرمایہ تو نے ہے لوٹایا
پیار کے قابل تو نے کر دیا
ایسا نہیں تھا پہلے جو آج ہو گیاہے
عاشقی کا مطلب تو نے ہے سیکھایا
میرا کھویا سرمایہ تو نے ہے لوٹایا
پیار کے قابل تو نے کر دیا
ایسا نہیں تھا پہلے جو آج ہو گیاہے
کسی سے تعلق تور کر اس کو خود سے جدا کرنا ہی گنوانا نہیں بلکہ اکثر ہم کسی کو اپنے قر یب رکھنے کے باوجودگنوا چکے ہوتے ہیں۔
لوگوں کو لوگ اور خدا کو خدا رہنے دے لوگوں کو خدا نہ بناٸیں کیونکہ خدا سے وفامطلوب ہے لیکن لوگوں سےسواۓ ٹھوکر کے کچھ مطلوب نہیں۔
تو ہر دفعہ تو لوٹ آتا ہے
مجھے سمیٹ بھی لیتا ہے
ذرہ ذرہ جور بھی دیتاہے
میری چپی بھی تور دیتا ہے
لیکن کہی نہ کہی مجھے کھو دیتا ہے
اور جو چیزیں چھوٹ جائے وہ لاکھ دل چاہنے پر بھی واپس نہیں آتی چاہے وہ لوگ ہو وہ بات ہو یا وہ لمہے ہو ۔ ❤️🩹